Urdu Poem on the Freedom Struggle in Kashmir
کشمیر کے نام
پچھتر برس سے زخموں کی زباں بولتی ہے یہ زمیں
ہر برف کے ذرّے میں چھپی ہے اک دبی ہوئی چیخ کہیں
وادی کی ہوا میں سسکیوں کا سفر جاری ہے
ہر گھر میں انتظار، ہر آنکھ میں سوال جاری ہے
ماں نے بیٹے کو صرف دعا دے کر رخصت کیا
باپ نے خاموشی سے خوابوں کو دفن کیا
بندوق کے سائے میں “امن” کے نعرے گونجتے ہیں
اور سچ یہ ہے کہ سچ بولنے والے ہی روتے ہیں
نہ پتھر جرم تھا، نہ خواب گناہ تھے
صرف آزادی مانگنا ہی سب سے بڑے خطا تھے
ہم نے قبروں سے بھی حوصلہ سیکھا ہے
ہر لاش نے جینے کا مطلب لکھا ہے
اے دنیا! اگر خاموشی ہی انصاف ہے
تو یہ وادی کیوں آج بھی لہو میں ڈوبی سانس ہے؟
ہم جنگ نہیں، صرف اختیار مانگتے ہیں
ہم نفرت نہیں، اپنی پہچان مانگتے ہیں
ایک دن یہ زنجیریں خود شرمندہ ہوں گی
یہ وادی پھر سے ہنستی، آزادہ ہوں گی
کیونکہ ظلم کی عمر زیادہ نہیں ہوتی
سچ کی روشنی کبھی ہاری نہیں ہوتی
Related:
No comments:
Post a Comment